EducationWorld

Grade 11 Islamiat Solved Model Paper 2027 – ALP Smart Syllabus Punjab

Full Book & Chapter-Wise Test Series | Punjab Board Annual Exam 2027

Prepare for the Grade 11 Islamiat Annual Examination 2027 with our ALP Smart Syllabus Solved Islamiat Model Paper 2027, developed according to the latest smart syllabus issued by PECTAA Punjab. This comprehensive Class 11 Islamiat Test Series includes solved preparation material, a Full Book Test Series, and Chapter-Wise Test Series to help students prepare effectively for the Punjab Board Annual Examinations 2027. These Punjab Board 2027 Model Papers are designed to support students in understanding important Islamic concepts, revising textbook content, and practising exam-oriented questions according to the new syllabus. Use these solved Islamiat model papers and chapter-wise tests to strengthen your preparation and improve your examination performance.

786Times 786Times 786Times 786Times 786Times

ماڈل پرچہ اسلامیات (لازمی) برائے گیارہویں جماعت

کل نمبر: 50وقت: 2 گھنٹے

(حصہ اوّل)

سوال نمبر 1: درست جواب کا انتخاب کیجیے:(10 کل نمبر)

(i) قرآنِ مجید تمام آسمانی کتب کے لیے ہے:

(الف) ترجمہ(ب) نگران(ج) تشریح(د) دیباچہ

(ii) کائنات میں مختلف جہانوں کا وجود اور ان میں اختلاف و تنوع پتا دیتا ہے:

(الف) ٹیکنالوجی کا(ب) ترقی کا(ج) خالقِ حقیقی کا(د) قربِ قیامت کا

(iii) نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اس عقیدے کو کہتے ہیں:

(الف) عقیدۂ تقدیر(ب) عقیدۂ آخرت(ج) عقیدۂ توحید(د) عقیدۂ ختمِ نبوت

(iv) مالِ غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا حصہ کہلاتا ہے:

(الف) عشر(ب) خمس(ج) صدقۂ فطر(د) جزیہ

(v) ریاستِ مدینہ میں دین کی تعلیم کے لیے جو درس گاہ قائم کی گئی اس کا نام تھا:

(الف) دارِ ارقم(ب) دارالعلوم(ج) صفہ(د) دارالہجرۃ

(vi) انصارِ مدینہ کی اکثریت کا پیشہ تھا:

(الف) کان کنی(ب) زراعت(ج) ملازمت(د) ماہی گیری

(vii) حدیثِ مبارک کی روشنی میں دین نام ہے:

(الف) صبر کا(ب) خیر خواہی کا(ج) مشقت کا(د) محبت کا

(viii) حدیثِ مبارک میں بیوہ اور مسکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والے کو قرار دیا گیا:

(الف) سخی(ب) محسن(ج) مجاہد(د) صابر

(ix) حضرت سیدنا امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں پر مشتمل کتاب کا نام ہے:

(الف) صحیفہ صادقہ(ب) صحیفہ صحیحہ(ج) صحیفہ جابر(د) صحیفہ سجادیہ

(x) حضرت یوسف علیہ السلام کی منصوبہ بندی سے قحط سے محفوظ ہوا:

(الف) مصر(ب) عراق(ج) حجاز(د) شام
جوابات: (i) ب – نگران  |  (ii) ج – خالقِ حقیقی کا  |  (iii) د – عقیدۂ ختمِ نبوت  |  (iv) ب – خمس  |  (v) ج – صفہ  |  (vi) ب – زراعت  |  (vii) ب – خیر خواہی کا  |  (viii) ج – مجاہد  |  (ix) د – صحیفہ سجادیہ  |  (x) الف – مصر
Page 1 of 2
786Times 786Times 786Times 786Times 786Times 786Times 786Times 786Times 786Times 786Times

(حصہ دوم)

سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے پانچ سوالوں کے مختصر جواب دیجیے:(2×5=10)

(i) آیاتِ احکام کے بارے میں مختصراً تحریر کریں۔

جواب: قرآنِ مجید کی وہ آیات جن میں عبادات، معاملات، نکاح و طلاق، وراثت اور حدود جیسے شرعی احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں، آیاتِ احکام کہلاتی ہیں۔ علما کے مطابق ان کی تعداد تقریباً پانچ سو ہے اور فقہا انہی سے احکام اخذ کرتے ہیں۔

(ii) صحاح ستہ میں سے دو کتب کے نام مع مؤلفین تحریر کریں۔

جواب: 1۔ صحیح بخاری – امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ۔ 2۔ صحیح مسلم – امام مسلم بن حجاج نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ۔

(iii) آسمانی کتابوں کی مشترکہ تعلیمات میں سے دو تحریر کیجیے۔

جواب: 1۔ توحید: صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا۔ 2۔ آخرت پر ایمان: مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا اور اعمال کی جزا و سزا پانا۔

(iv) روزے کے انسانی صحت پر کوئی سے دو اثرات تحریر کریں۔

جواب: 1۔ نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے اور جسم سے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں۔ 2۔ ضبطِ نفس اور کم کھانے کی عادت سے موٹاپا کم ہوتا ہے اور ذہنی سکون ملتا ہے۔

(v) قربانی کا فلسفہ بیان کریں۔

جواب: قربانی حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم سنت کی یاد ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی عزیز ترین چیز قربان کرنے کو تیار رہے، اس میں تقویٰ پیدا ہو اور گوشت کی تقسیم سے غریبوں کی مدد ہو۔

(vi) ریاستِ مدینہ کے تعلیمی نظام میں ہمارے لیے کیا راہ نمائی ہے؟

جواب: ریاستِ مدینہ میں مسجدِ نبوی اور صفہ کو تعلیمی مرکز بنایا گیا، تعلیم سب کے لیے عام تھی اور غزوۂ بدر کے پڑھے لکھے قیدیوں کی رہائی مسلمان بچوں کو پڑھانے سے مشروط کی گئی۔ ہمیں راہ نمائی ملتی ہے کہ ہر فرد کی تعلیم کو اہمیت دی جائے اور اساتذہ کی قدر کی جائے۔

(vii) خاندان کے سربراہ کے لیے سیرتِ طیبہ ﷺ میں کیا عملی راہ نمائی ہے؟

جواب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو۔ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرتے، ان سے مشورہ لیتے اور عدل و نرمی سے پیش آتے تھے۔ سربراہِ خاندان کو یہی طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔

(viii) ارتکازِ دولت معاشی نظام میں بگاڑ کا سبب ہے، وضاحت کریں۔

جواب: جب دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو عام لوگ وسائل سے محروم ہو جاتے ہیں، امیر و غریب کا فرق بڑھتا ہے اور معاشرے میں بے چینی پھیلتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا: ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ﴾ (الحشر: 7) یعنی دولت صرف مال داروں کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔
سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ سوالوں کے مختصر جواب دیجیے:(2×5=10)

(i) رشوت ستانی کیسے دوسروں کے حقوق کو سلب کرتی ہے؟

جواب: رشوت کے ذریعے نااہل شخص کام یاب ہو جاتا ہے اور اہل و حق دار محروم رہ جاتا ہے، یوں میرٹ اور انصاف ختم ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

(ii) تحقیرِ انسانیت کی مروجہ صورتوں میں سے دو صورتیں تحریر کریں۔

جواب: 1۔ رنگ، نسل، ذات پات یا زبان کی بنیاد پر کسی کو کم تر سمجھنا۔ 2۔ غریب، مزدور یا کم زور کا مذاق اڑانا اور برے القاب سے پکارنا۔

(iii) آپ اپنے اساتذہ کرام کا کیسے احترام کرتے ہیں؟

جواب: میں استاد کے آنے پر کھڑا ہو جاتا ہوں، ادب سے بات کرتا ہوں، ان کی بات توجہ سے سنتا اور مانتا ہوں، ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی برائی نہیں کرتا اور ان کے لیے دعا کرتا ہوں۔

(iv) عدّت کی اقسام تحریر کریں۔

جواب:
  • طلاق کی عدّت: تین ماہواریاں (جسے ماہواری نہ آتی ہو اس کی تین ماہ)۔
  • وفات کی عدّت: چار ماہ دس دن۔
  • حاملہ کی عدّت: بچے کی پیدائش تک۔

(v) خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی دو نمایاں خصوصیات تحریر کریں۔

جواب: 1۔ عدل و انصاف: ہر شخص کے ساتھ بلا امتیاز انصاف کیا۔ 2۔ سادگی اور خدمتِ خلق: حکومت کو امانت سمجھا اور عوام کی ضروریات کا خیال رکھا۔

(vi) حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات تحریر کریں۔

جواب: آپ مدینہ منورہ کے جلیل القدر عالم تھے اور فقہ، حدیث اور تفسیر میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ آپ کے علمی حلقے سے بڑی تعداد میں طلبہ نے فیض پایا جن میں ائمہ کرام بھی شامل ہیں۔

(vii) اسلاموفوبیا کی دو صورتیں تحریر کریں۔

جواب: 1۔ مسلمانوں کے ساتھ تعلیم، ملازمت اور معاشرتی زندگی میں امتیازی سلوک۔ 2۔ مساجد، حجاب اور مقدساتِ اسلام کی توہین یا ان پر حملے اور میڈیا میں منفی پروپیگنڈا۔

(viii) قانون کے احترام کی اہمیت مختصراً تحریر کریں۔

جواب: قانون کے احترام سے معاشرے میں امن، انصاف اور نظم و ضبط قائم رہتا ہے، سب کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں اور ملک ترقی کرتا ہے۔ اسلام بھی شرعی دائرے میں رہتے ہوئے اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔

(حصہ سوم)

سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے کوئی سی دو احادیثِ مبارکہ کا اردو ترجمہ کیجیے:(04=2+2)

(الف)

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ

ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں: صحت اور فراغت (فارغ وقت)۔ (صحیح بخاری)

(ب)

مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

ترجمہ: تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کم زور ترین درجہ ہے۔ (صحیح مسلم)

(ج)

لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَآءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَآءِ بِالرِّجَالِ

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ (صحیح بخاری)

(د)

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
سوال نمبر 5: درج ذیل میں سے کوئی سے دو سوالات کے تفصیلی جواب دیجیے:(16=08+08)

(i) نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔

جواب: نبی کریم ﷺ نے ایسا معاشی نظام عطا فرمایا جو عدل، محنت اور ہم دردی پر قائم ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں:
  • حلال روزی: حلال کمانے کو عبادت قرار دیا اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو بہترین رزق فرمایا۔
  • حرام ذرائع کی ممانعت: سود، رشوت، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی اور دھوکے سے منع فرمایا۔
  • دولت کی گردش: دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکا، ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ﴾۔
  • زکوٰۃ و صدقات: مال داروں پر زکوٰۃ فرض کی اور صدقات کی ترغیب دی تاکہ غریبوں کی کفالت ہو۔
  • اعتدال: فضول خرچی اور بخل دونوں سے منع کر کے میانہ روی کا حکم دیا۔
  • مزدور کے حقوق: فرمایا کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔
  • محنت کی ترغیب: بھیک مانگنے کو ناپسند فرمایا اور محنت مزدوری کی حوصلہ افزائی کی۔
  • سچی تجارت: سچے اور امانت دار تاجر کو انبیاء، صدیقین اور شہداء کی رفاقت کی خوش خبری دی۔

(ii) زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور معاشرتی اثرات پر نوٹ لکھیں۔

جواب: تعریف: مال کے مقررہ حصے کو اللہ کی رضا کے لیے شرعی مستحق کا مالک بنا دینا زکوٰۃ ہے۔ یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔
  • نصاب: ساڑھے سات تولہ سونا، ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مال (حاجتِ اصلیہ سے زائد) اور اس پر سال گزرنا۔
  • شرح: سونا، چاندی اور مالِ تجارت پر ڈھائی فی صد (چالیسواں حصہ)؛ زرعی پیداوار پر عشر یا نصف عشر۔
  • مستحقین: فقراء، مساکین، عاملین، مؤلفۃ القلوب، غلام آزاد کرانے، مقروض، فی سبیل اللہ اور مسافر (سورۃ التوبہ: 60)۔
  • مسائل: زکوٰۃ مالک بنا کر دی جائے، اپنے والدین اور اولاد کو نہ دی جائے اور اس میں نیت ضروری ہے۔
معاشرتی اثرات:
  • غربت اور محتاجی کا خاتمہ ہوتا ہے اور دولت کی گردش بڑھتی ہے۔
  • مال دار کا دل بخل اور حرص سے پاک ہوتا ہے۔
  • امیر و غریب میں محبت اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے، جرائم کم ہوتے ہیں اور معاشی استحکام آتا ہے۔

(iii) قرآن و سنّت کی روشنی میں نکاح و طلاق کے احکام و مسائل پر تفصیلی مضمون قلم بند کریں۔

جواب: نکاح: نکاح نبی کریم ﷺ کی سنت اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔
  • نکاح میں فریقین کی رضامندی، ایجاب و قبول اور کم از کم دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔
  • مہر بیوی کا حق ہے جو خوش دلی سے ادا کیا جائے (سورۃ النساء: 4)۔
  • نکاح کا اعلان کرنا اور استطاعت ہو تو ولیمہ کرنا سنت ہے۔
  • شوہر پر نان نفقہ اور حسنِ سلوک لازم ہے اور بیوی پر گھر کی حفاظت اور باہمی اعتماد۔
طلاق: طلاق حلال کاموں میں اللہ کو سب سے ناپسندیدہ ہے، اس لیے آخری چارۂ کار ہے۔
  • اختلاف ہو تو پہلے سمجھانے اور دونوں خاندانوں کے ثالثوں کے ذریعے صلح کی کوشش کی جائے (سورۃ النساء: 35)۔
  • بہترین طریقہ یہ ہے کہ طہر (پاکی) کی حالت میں ایک طلاق دی جائے۔
  • طلاق کے بعد عدّت گزارنا لازم ہے، اس دوران رجوع ہو سکتا ہے (سورۃ البقرہ: 229-230)۔
  • عورت کی طرف سے ناپسندیدگی ہو تو خلع کا راستہ موجود ہے۔

(iv) “اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں” کے عنوان پر بحث کریں۔

جواب: تعریف: اسلام اور مسلمانوں سے بلا جواز خوف، نفرت اور امتیازی رویہ اسلاموفوبیا کہلاتا ہے۔
  • اسباب: اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں، میڈیا کا یک طرفہ کردار، دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا اور سیاسی مفادات۔
  • مظاہر: حجاب پر پابندی، مساجد پر حملے، مقدساتِ اسلام کی توہین اور ملازمت و تعلیم میں امتیاز۔
  • اسلام کی تعلیم: اسلام امن و رواداری کا دین ہے، ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (البقرہ: 256)۔
مسلمانوں کی ذمہ داریاں:
  • اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کی صحیح اور خوب صورت تصویر پیش کرنا۔
  • حکمت اور اچھے انداز سے مکالمہ کرنا، ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (النحل: 125)۔
  • تعلیم، جدید ابلاغ اور قانونی ذرائع سے غلط تاثر کا ازالہ کرنا۔
  • انتہا پسندی اور تشدد کی واضح مذمت کرنا اور باہمی اتحاد قائم رکھنا۔
Page 2 of 2
Model Paper Islamiyat (Compulsory) for Grade-11 – PECTAA, Notification No. PECTAA/C&C Unit/2026/1239, dated 06.11.2026 (Annex-A). Answers are provided for study help.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!